بھٹکل 14 فروری (ایس او نیوز) مینگلور کی مصنفہ ہرشا شنکر بھٹ کی لکھی کتاب نوائطی آف بھٹکل کا اتوار کو بھٹکل کے تاریخی مقام ناوجے فاتر پر خوبصورت اجراء کیا گیا جس میں مصنفہ نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ زبان ایک کھڑکی کی مانند ہوتی ہے، جب ہم جھانک کر دیکھیں گے تو پتہ چلتا ہے کہ اندر کیا ہے، کھڑکی سے اندر کے لوگ جب ہمیں باہر دیکھں گے تو وہ دروازہ کھولیں گے۔ میرے لئے نوائطی لوگوں نے گھر کا دروازہ کھولا، مجھے اندر لیا اپنی بھاشا کے تعلق سے جانکاری دی۔انہوں نے نوائط کمیونٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی بھاشہ (زبان) پر فخر کرناچاہئے کیونکہ نوائط کمیونٹی کی اپنی ایک تہذیب ہے، یہاں کے لوگ زیادہ تر تعلیم یافتہ ہیں، رہن سہن دوسروں سے ممتاز ہے، نوائطی ایک ایسی کمیونٹی ہے جو دنیا کے کسی بھی کونے میں جائیں ، جہاں پر بھی جاکر پیسہ کمائیں، وہ واپس بھٹکل ہی آتے ہیں، یہیں پر اپنا پیسہ خرچ کرتے ہیں، یہی پر اپنا گھر بساتے ہیں، اسی سے ایک کمیونٹی مضبوط بنتی ہے، ایک سماج پھلتا پھولتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نوائطی بھاشا کے تعلق سے جاننے کا شوق اُس وقت پیدا ہوا جب میرے والد نے مجھے بتایا کہ بھٹکل کے جو مسلمان ہیں اُن کی کونکنی زبان الگ ہے،مجھے جاننے کا اشتیاق پیدا ہوا کہ الگ سے کونکنی پھر کیسے بولی جاتی ہے۔ میں نے ساحلی کرناٹکا سے ممبئی تک کا سفر کیا،ممبئی میں مراٹھی بولی بھی نوائطی اور کونکنی جیسی ہے، لیکن مجھے نوائطی زبان زیادہ مانوس لگی، یہاں پر جب آئی تو مجھے اپنا پن محسوس ہوا ، بھٹکل کی نوائطی کیسے بولی جاتی ہے، نوائطی زبان کےقواعد کیا ہیں اُسی پر ریسرچ کرکے میں نے کتاب لکھا ہے اور لوگوں کے لئے ایک کھڑکی کھول دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوائط پر مزید بہت کچھ ریسرچ ہونا چاہئے۔اس کےلئے مزید لوگوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر انہوں نے معروف نائطی شاعر مرحوم شبیر بائیدا کی نظم "آپوتاتمکا گاوں یا" اپنی مترنم آواز میں پڑھ کر سنائی اور حاضرین سے داد و تحسین حاصل کی۔
تلاوت کلام پاک مع نوائطی اور کنڑا ترجمہ اور نعت کے بعد پروگرام کا اغاز ہوا۔تقریب میں سن شائین کا ترانہ بھی پیش کیا گیا اور معروف نائطی شاعر سمیع اللہ برماور نے اپنی ایک نظم بھی پڑھ کر سنائی۔ وشوا کوکنی کیندرا کے صدربستی وامن شینائی نے صدارت کی۔ گرودت بنٹوال نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہر 15 کلومیٹر کے فاصلے پر زبان میں تھوڑی تھوڑی تبدیلی نظر آتی ہے، انہوں نے کہا کہ انڈیا میں جتنی بھی بھاشا بولی جاتی ہیں تمام بھاشاوں میں ایک طرح کی یکسانیت نظر آتی ہے۔ان کے مطابق نوائطی لوگ جس زبان میں بات کرتے ہیں آپ اُس زبان کو نوائطی کہتے ہیں، گجرات میں جو لوگ جس زبان میں بات کرتے ہیں، اُسے گجراتی، پنجاب میں رہنے والوں کی زبان پنجابی، کشمیر میں رہنے والوں کی زبان کشمیری، اس طرح جو لوگ جہاں رہتے ہیں اُدھر کے لوگوں کی زبان اُسی علاقہ کے نام کے ساتھ موسوم ہوتی ہے۔اسی طرح کونکن علاقوں میں جو زبان بولی جاتی ہے اُسے کونکنی کہتے ہیں۔ انہوں نے وشوا کونکنی کیندرا کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2009 میں قائم اس سینٹر کےذریعے کونکنی کی مختلف بھاشا پر ریسرچ کرنے کا کام کیا جارہا ہے اور جو بھی کونکنی بھاشا، کونکنی لوگوں یا کونکنی سماج پر ریسرچ کرتے ہیں اُنہیں فیلوشپ دی جاتی ہے ۔
نوائط محفل کے صدر جناب جان عبدالرحمن محتشم کےہاتھوں نوائطی آف بھٹکل کتاب کا اجراء کیا گیا۔ مہمان خصوصی کے طور پر تشریف فرما مولانا الیاس جاکٹی ندوی ، پردیپ پائی اور عتیق الرحمن مُنیری نے اپنے اپنے تاثرات پیش کئے۔ عتیق الرحمن شاہ بندری نے پروگرام کی نظامت کی۔ اسٹیج پر قمر سعدا، مولوی عبدالعلیم قاسمی، سن شائین کے جنرل سکریٹری قیصر محتشم، صدیق اسماعیل، جعفر محتشم، کے وی کھاروی، وسنت کھاروی، پوجا وی نائک، زُبیر جوکاکو وغیرہ موجود تھے۔کتاب کی رسم اجرائی کا یہ پروگرام نوائط محفل، سن شائین اسپورٹس سینٹر اور وشوا کونکنی کیندا نے مشترکہ طور پر آرگنائز کیا تھا۔